ابنا: آئین پاکستان کو بےدست و پا کر دیا گیا، ملک میں انارکی و افراتفری کی صورتحال، عوام کے تحفظ میں ریاست اور آئین ناکام ہو چکے، ملک میں قاتلوں کو سزائیں نہیں دی جا رہی ہیں جبکہ ذمہ دار قاتلوں کے عملاً پشت پناہ دکھائی دے رہے ہیں، ریاست کے اندر ریاست قائم ہے اور عوام کو حقائق سے آگاہ کرنے کی اجازت تک نہیں ہے، ایسا لگتا ہے کہ آئین اور ریاست سب سے کمزور چیز کا روپ دھار گئی ہیں۔ پاکستان بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کیا آج سرزمین پاک کی حالت انتہائی ابتر ہو چکی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اداروں میں ٹکراؤ جیسی صورتحال اور گذشتہ روز اٹارنی جنرل کے عدالت عظمیٰ میں بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ملک میں بار بار یہ کہا جا رہا ہے کہ ادارے اپنی حدود میں رہیں جو انتہائی مبہم بات ہے جس سے آئین کی ناتوانی کا اظہار ہوتا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ملک کے اندر صحیح معنوں میں آئین کو نافذ ہی نہیں ہونے دیا گیا جبکہ آئین پامال ہوتا رہا اور کوئی اقدام تک نہیں اٹھایا گیا جن لوگوں نے آئین کو اپنے راستے کا کانٹا سمجھا انہوں نے اس کو ایک طرف رکھ دیا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ اب بھی آئین کی اکثر دفعات ایسی ہیں جو تشنۂ عمل ہیں اور ان دفعات پر عملدرآمد کرانے کی کوئی جرات نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل کا یہ کہنا کہ ان کے ہاتھ بندھے ہیں ایک چھوٹی مثال ہے ورنہ اس سے بڑی مثالوں سے تاریخ بھری پڑی ہے کیونکہ آئین پر عملدرآمد ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے آئین بالکل غیر فعال ہو چکا ہے۔
سربراہ شیعہ علماء کونسل نے کہا کہ اس وقت ریاست اور آئین انتہائی کمزور چیز کا روپ دھار چکے ہیں اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ نیا سوشل کنٹریکٹ لایا جائے کیونکہ ریاست اور آئین عوام کا تحفظ نہیں کر پا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے ساتھ بدسلوکی کے باعث ہی ریاست شہریوں کو تحفظ نہیں دے سکی ملک میں ہر طرف افراتفری اور انارکی ہے جس ملک میں قاتلوں کی حکمرانی ہو، ریاست کے اندر ریاست قائم ہو، کسی قاتل یا مجرم کو سزا نہ دی جا سکتی ہو اور عوام کو حقائق سے آگاہ کرنے کی اجازت تک نہ ہو اس پر افسوس کے علاوہ کیا کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بہت قربانیوں کے بعد حاصل کیا لیکن آج کی ابتر صورتحال دیکھ کر انتہائی افسوس ہو رہا ہے۔
.......
/169